فیصل آباد کی ڈسٹرکٹ جیل میں قیدیوں کو مردہ مرغیوں کا گوشت کھلانے کا ہوش رُبا انکشاف سامنے آ گیا ہے، جس میں جیل کے اعلیٰ افسران سمیت متعدد اہلکار براہِ راست ملوث پائے گئے ہیں۔ فیصل آباد ٹی وی نے چند روز قبل یہ سنگین خبر بریک کی تھی، جس کی اب باقاعدہ طور پر سرکاری اداروں کی انٹیلیجنس رپورٹس اور ویڈیو شواہد سے بھی تصدیق ہو چکی ہے۔
اسپیشل برانچ اور دیگر حساس اداروں کی خفیہ کارروائیوں سے پتہ چلا ہے کہ جیل کے اندر روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 2 سے 3 من مردہ مرغیوں کا گوشت پہنچایا جاتا تھا، جو زندہ مرغی کے گوشت میں ملا کر قیدیوں کو فراہم کیا جاتا۔ چکن سپلائی کا ٹھیکیدار شہباز روزانہ گاڑی میں زندہ مرغیاں جیل پہنچاتا جبکہ ملازم علی دو نیلے ڈرموں میں مردہ مرغیاں موٹر سائیکل کے ذریعے اندر منتقل کرتا رہا۔
یہ مردار گوشت جیل کے مخصوص دروازوں سے گزر کر اندر پہنچتا، جہاں اسے بغیر کسی چیکنگ کے جیل کے کچن تک منتقل کیا جاتا تھا۔ جیل وارڈن فیصل، اسٹور کیپر اور دیگر افسران اس عمل میں ملوث پائے گئے۔
جیل میں اس وقت تقریباً 2200 قیدی موجود ہیں جنہیں جیل مینول کے مطابق روزانہ 100 گرام گوشت فی قیدی فراہم کیا جاتا ہے، لیکن کئی مہینوں سے ان قیدیوں کو مسلسل مردہ گوشت دیا جاتا رہا، جو انسانی صحت اور حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہے۔
رپورٹ میں نامزد ملوث افراد میں شامل ہیں
فرخ سلطان (سپرنٹنڈنٹ جیل)
نوید اسلم (ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ)
نصیر احمد (اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ)
ظفر اقبال (اسٹور کیپر)
محمد فیصل (وارڈن)
علی ولد ارشاد (ملازم)
شہباز ولد محمد فاروق (ٹھیکیدار)
اس انکشاف پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ان افسران کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا، مگر باوثوق ذرائع کے مطابق انہیں چند ہی گھنٹوں بعد دوبارہ بحال کر دیا گیا، جس نے پورے معاملے کو اور بھی مشکوک بنا دیا ہے۔