ڈچ فنڈ برائے ماحول اور ترقی سے لوگوں کے روزگار میں بھی اضافہ کیا جا سکے گا.ڈائریکٹرورلڈ وائلڈلائف فنڈ پاکستان

عوامی مسائل

فیصل آباد(نمائندہ ایف ٹی وی) 160ملین یورو کے ڈچ فنڈ برائے ماحول اور ترقی سے ایسے قابل عمل اور منافع بخش منصوبے شروع کئے جائیں گے جن سے ماحول کے تحفظ کے ساتھ ساتھ لوگوں کے روزگار میں بھی اضافہ کیا جا سکے گا۔ یہ بات ورلڈ وائلڈلائف فنڈ پاکستان کے ڈائریکٹر جنگلی حیات ڈاکٹر طاہر رشید نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں ڈچ فنڈ کے بارے میں ایک آگاہی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے بتایا کہ ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کیلئے دنیا کو 4.2کھرب ڈالر کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں امیر ملکوں نے 1.7کھرب ڈالر دیئے ہیں جبکہ تیسری دنیا کے ملک اپنی اقتصادی مجبوریوں کی وجہ سے اس میں اپنا حصہ نہیں ڈال سکتے۔ انہوں نے کہا کہ جن ملکوں کے پاس اپنے عوام کی غذائی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے وسائل نہیں وہ ماحول کے تحفظ کیلئے بھاری بھر کم اخراجات کیسے برداشت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کیلئے 160ملین یورو کا ڈچ فنڈ برائے ماحول و ترقی قائم کیا گیا ہے جو ایسے ماحول دوست اور منافع بخش منصوبوں کیلئے سرمایہ مہیا کرے گا جولوگوں کیلئے روزگار بھی مہیا کریں گے۔ اس منصوبے کے تحت ابتدائی سٹڈی کیلئے 60ہزار یورو کی گرانٹ دی جائے گی جبکہ پائلٹ پراجیکٹ کیلئے مزید 3لاکھ 50ہزار یوروکی گرانٹ دی جا سکتی ہے۔ اِس کے بعداِس منصوبے کیلئے مارکیٹ کے مطابق قرض بھی دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سمیت چھ ملکوں میں اِن منصوبوں پر کام کر رہا ہے جبکہ اَب انڈیا اور انڈونیشیا اَب اس میں شامل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے چاول کی فصل کی باقیات کو آگ لگانے سے ماحول کو پہنچنے والے نقصان کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت کے 17شہروں میں اس فنڈ کے ذریعے چاول کی فصل کی باقیات کو انرجی اور بجلی بنانے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ اس طرح جہاں ماحول کو پہنچنے والے نقصان سے بچاجا رہا ہے وہاں متعلقہ کسانوں کو معقول رقم بھی مل رہی ہے۔ انہوں نے انڈس ڈیلٹا میں شروع کئے جانے والے منصوبوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ پاکستان کیلئے 7ملین یورو کے منصوبے شروع ہو چکے ہیں یا منظوری کے قریب ہیں۔ انہوں نے کھارے پانی کے منافع بخش استعمال کے منصوبے کے بارے میں بتایا کہ اس پر 14.9ملین یورو کی گرانٹ ملے گی جبکہ شوگر ملوں کے بیگاس کو بھی ماحول دوست ٹیکنالوجی کے ذریعے قابل استعمال بنایا جائے گا۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے سینئر منیجر فریش واٹر پروگرام سہیل علی نقوی نے بتایا کہ آئی ایل او کے تعاون سے ٹیکسٹائل اور لیدر کے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ صنعتوں کے گندے پانی کو ٹریٹ کر کے زرعی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کے منصوبے بھی شروع کئے جا سکتے ہیں۔ اس سے قبل ایگزیکٹو ممبر ثناء اللہ نیازی نے فیصل آباد اور فیصل آباد چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کا مختصر تعارف پیش کیا جبکہ محمد فاضل نے مہمانوں کا شکریہ اد اکیا۔ اس موقع پر سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی جبکہ ڈاکٹر طاہر رشید نے محمد فاضل کو ڈبلیو ڈبلیو ایف کی شیلڈ دی جبکہ ثناء اللہ نیازی کو بھی اجرک پہنائی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے