حالیہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور ایل نینو کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باعث 2050 تک فیصل آباد دنیا کے گرم ترین شہروں میں شامل ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے نتیجے میں شہر میں ہیٹ ویوز کی شدت بڑھے گی جبکہ گرمی سے متعلق بیماریوں اور اموات کی شرح میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
تحقیق کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی اور ایل نینو کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ ڈاکٹر ظہیر بابر نے خبردار کیا ہے کہ فیصل آباد سمیت پنجاب کے بڑے شہری مراکز میں بلند عمارتوں کا بڑھتا ہوا جال، گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں، درختوں کی کمی اور تیزی سے پھیلتی ہاؤسنگ سوسائٹیز شہری علاقوں کو مزید گرم بنا رہی ہیں، جس سے ہیٹ ویوز کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرِ ماحولیات ڈاکٹر ذوالفقار احمد کے مطابق دنیا بھر میں اوسط درجہ حرارت میں تقریباً 1.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، تاہم پاکستان کے بڑے شہروں میں یہ شرح کہیں زیادہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلوں کو شدید موسمی خطرات اور غیر معمولی گرمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت، اداروں اور شہریوں پر زور دیا ہے کہ شجرکاری، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار شہری منصوبہ بندی کو ترجیح دی جائے تاکہ فیصل آباد کو مستقبل کے موسمی چیلنجز سے محفوظ بنایا جا سکے۔



