انسانی حقوق کی تکریم اور فراہمی ہی پرامن معاشرے کی ضمانت ہے. شرکاء انسانی حقوق ریلی

عوامی مسائل

فیصل آبادانسانی حقوق کی تکریم اور فراہمی ہی پرامن معاشرے کی ضمانت ہے،کشمیراور فلسطین سمیت دنیا بھر کے مظلوم طبقات کے مسائل کاخاتمہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیہ کے مطابق تمام انسانوں کو بلا تفریق مذہب،جنس، رنگ اور نسل مساوی حقوق کی ضمانت دی جائے تاکہ وہ محفوظ اور خوشحال زندگی بسر کر سکیں تاہم اس کے لئے ضروری ہے کہ تمام ممالک اخلاقی و آئینی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو آزاد اور پرامن ماحول فراہم کرنے کے عہد پر عمل پیرا ہوں۔ان خیالات کااظہارعوام پاکستان، لائلپورڈویلپمنٹ آرگنائزیشن اور مینارٹی کوکس کے زیر اہتمام انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ ریلی کے شرکاء نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہی۔رہنما پاکستان تحریک انصاف ندیم صادق ڈوگرنے ریلی کی قیادت کی جبکہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر عوام پاکستان شازیہ جارج،پروگرام ڈائریکٹر نسیم انتھنی،کنوینئر مینارٹی کوکس منظور انتھنی،نائب صدر طاہرہ انجم،جوائنٹ سیکرٹری مینارٹی کوکس یاسر طالب،ڈائریکٹر لائلپورڈویلپمنٹ آرگنائزیشن رانا واجد،سی ایس اے کے نعمان امجد اور کوآرڈینیٹرعوام پاکستان سونیا پطرس و دیگر بھی ریلی میں شریک تھے۔ندیم صادق ڈوگر نے کہا کہ پاکستان مختلف مذاہب، رنگ، نسل اور زبانیں بولنے والے کم وبیش 22کروڑ شہریوں کا خوبصورت گلدستہ ہے جنہیں ایک ساتھ پرامن طور پر زندگی بسرکرنے کا حق آئین پاکستان دیتا ہے۔آئین پاکستان تمام شہریوں کو رنگ و نسل،مذہب اور زبان میں تفریق کئے بغیر برابری کا حق تفویض کرتاہے حقوق کی اس آزادی میں اس بات کی ہرگز تخصیص نہیں کی گئی کہ افراد باہم معذوری،مذہبی اقلیتیں یا خواتین ومرددوسرے یا تیسرے درجے کے شہری تصور ہوں گے اس ضمن میں اقوام متحدہ کے اعلامیہ برائے انسانی حقوق کے تناظر میں آئین پاکستان بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے کم وبیش ہر پہلو کا احاطہ کرتا ہے نیز مساوی شہریت اور مواقعوں کی فراہمی کی ذمہ داری ریاست پرعائد ہوتی ہے جسے انجام دینے کے لئے موجودہ حکومت ایمانداری اورجذبے سے مصروف عمل ہے۔شازیہ جارج و دیگرشرکاء کا کہنا تھا کہ عوام پاکستان،لائلپور ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن اور مینارٹی کوکس پاکستان میں شہریت اور مواقعوں کے مساوی درجے اور فراہمی کے لیے کوشاں اور معاشرے کو سیاسی و سماجی طور پر شمولیتی اور پرامن بنانے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ ہر شہری کو بلا تفریق رنگ،نسل،جنس اور مذہب پرامن طریقے سے زندگی بسر کرنے کے مساوی مواقع میسر ہوں لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ آئین میں انسانی حقوق کے باب کو نصاب میں شامل کرتے ہوئے نوجوان نسل کو اس بارے مناسب آگاہی و رہنمائی دی جائے تاکہ سب پاکستانی اپنے حقوق و فرائض سے واقف ہوں اور قانون کے احترام کو مقدم جانیں۔انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پرشرکاء نے اپنے پیغام میں کہا کہ برابری کی بنیادپر شہریت اور مساوی مواقعوں کی فراہمی اور اس ضمن میں قانون سازی اور قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ تمام انسان بلا تفریق مذہب،جنس یا نسل ایک محفوظ اور خوشحال زندگی بسر کر سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے