پاکستان کی پہلی ایس ایم ای پالیسی کا اعلان وزیر اعظم عمران خان دسمبر میں کریں گے

سیاست عوامی مسائل

فیصل آباد (نمائندہ ایف ٹی وی) پاکستان کی پہلی ایس ایم ای پالیسی کا اعلان وزیر اعظم عمران خان دسمبر کے پہلے ہفتہ میں کریں گے جس سے اس شعبہ کی براہ راست ترقی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ یہ بات فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر عاطف منیر شیخ نے آج ”لفٹ پاکستان“ کے زیر اہتمام ایک تعارفی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ نئی ایس ایم ای پالیسی کی تیاری کے سلسلہ میں اسلام آباد میں دو اجلاسوں میں شرکت کر چکے ہیں جبکہ انہوں نے اس پالیسی کے سلسلہ میں تجویز دی ہے کہ کمرشل بینکوں کو پابند کیا جائے کہ وہ بڑے اداروں کو 60سے 70فیصد سے زائد قرض نہیں دیں گے اور باقی سرمایہ صرف اور صرف ایس ایم ای سیکٹر کو ملے گا۔ انہوں نے مزید بتایاکہ اس وقت ایس ایم ای یونٹ صرف 10ملین روپے تک کا کولیٹرل فری قرض لے سکتا ہے جبکہ انہوں نے اس لمٹ کو بڑھا کے 20ملین کرنے کی سفارش کی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ دوسرے سیکٹرز کی طرف ایس ایم ای سیکٹر کے زیادہ نخرے بھی نہیں جبکہ یہ واحد شعبہ ہے جو سب سے زیادہ ملازمت کے مواقع پیدا کر رہا ہے۔ کرونا کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اُن کے خیال میں ہر وقت اور ہر شعبہ میں بہتری کی گنجائش رہتی ہے۔ کرونا کی وجہ سے جہاں عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے وہاں ای کامرس اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز استعمال کرنے والوں نے زبردست ترقی بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان بھی کرونا سے متاثر ہوا مگر حکومت کی سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی نے ہماری معیشت میں بہتری لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ 50سال قبل جو ٹیکنالوجیز عالمی سطح پر متعارف ہوئی تھیں ہم نے ابھی تک انہیں استعمال ہی نہیں کیا۔گزشتہ ماہ کے دوران ہی ای کامرس کی بانی کمپنی مائیکرو سافٹ تیسرے نمبر پر چلی گئی جبکہ ایمیزون پہلے نمبر پر آگئی۔ انہوں نے کہا کہ زوم ٹیکنالوجی نے ہمیں حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کا موقع دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایمیزون نے پاکستان میں کام شروع کردیا ہے جبکہ پے پال سے بھی بات چیت چل رہی ہے جس کے آنے سے ای بزنس کا شعبہ تیزی سے ترقی کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ابھی تک ایس ایم ای سیکٹر کو متحرک نہیں کر سکے یا یہ سیکٹر خود ہی ڈیجیٹلائزیشن کی طرف نہیں جانا چاہتا۔ تاہم توقع ہے کہ ہمارے نوجوان ”لفٹ پاکستان“جیسے اداروں کی وجہ سے اس شعبہ میں اپنی صلاحیتوں کے مطابق کام کر سکیں گے۔ اس سے قبل لفٹ پاکستان کے بانی خرم زبیری نے اپنی تنظیم کا تعارف کرایا اور بتایا کہ”فیوچر 500“کے عنوان سے 15سے 18دسمبر تک ایک کانفرنس ہوگی جس میں 200ایس ایم ایز اپنے سٹال لگائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس شعبہ میں ترقی کے وسیع مواقع ہیں جن سے ہمارے نوجوانوں کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے اپنے پروگراموں میں ٹیکسٹائل سمیت چار نئے شعبوں کو بھی شامل کیا ہے جس سے یہ شعبے بھی ڈیجیٹلائزیشن سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ اس موقع پر آئی ٹی بارے قائمہ کمیٹی کے چیئرمین انجینئر بابر شہزاد اور ٹیلی کمیونی کیشن بارے قائمہ کمیٹی کے چیئرمین عابد عزیز نے بھی خطاب کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے